نواز شریف

Shahidlogs سے

کام اور کارنامے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

موٹر ویز، سڑکیں، ٹنل اور پل[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کی حکومت میں پاکستان میں پہلی بار اسلام آباد سے لاہور تک ایم 2 موٹر وے بنائی گئی۔

لواری ٹنل بنائی گئی۔

بلوچستان میں 13سو کلومیٹر کی نئی سڑکیں بنائی گئیں۔

میٹروز[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف نے لاہور، پنڈی اسلام آباد اور ملتان میں میٹرو بس منصوبے مکمل کیے۔

اسی طرح لاہور میں اس نے اورینج ٹرین کا منصوبہ بھی مکمل کیا۔

سی پیک منصوبہ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف نے چین کے ساتھ ملکر سی پیک منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت چین کو شاہراہ قراقرم کے ذریعے گوادر کی بندرگاہ تک لانا تھا۔

ایٹمی دھماکے[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کی حکومت میں پاکستان نے امریکی دباؤ کے باؤجود کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے انڈین دھماکوں کا جواب دیا اور اس کو کسی بھی ممکنہ جارحیت سے روک دیا۔ [1]

ضرب عضب[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کی حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب آپریشن کیا۔ جس میں دہشتگردوں کے زیر قبضہ تمام علاقے چھڑا لیے گئے۔

دیگر[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف نے پی ایم ھاؤس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ [2]

عمران خان متعدد ویڈیوز میں اعتراف کر چکا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کی مجوزہ لاگت 70 کروڑ روپے تھی۔ جس میں 50 کروڑ روپے میاں شریف (والد میاں نواز شریف) نے اپنی زاتی جیب سے چندہ دیا تھا۔ زمین بھی ن لیگ کی حکومت نے دی تھی۔ [3] [4]

شریف میڈیکل سوات کے نام سے ایک اسپتال نواز شریف نے اپنے خرچ پر بنایا ہے۔ [5]

نواز شریف کی حکومت میں آرمی/ایرفورس کے لئے کئی تنصیبات بنیں۔

نیلم جہلم منصوبہ مکمل کیا گیا۔

عرب ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے گرین لائن کی سہولت دی۔

گوادر منصوبے کی داغ بیل ڈالنے والا نواز شریف تھا۔ [6]

اتوار کی چھٹی شروع کرائی تاکہ دنیا کے ساتھ لین دین میں آسانی ہو۔

یوم پاکستان کی پریڈ دیکھی یہ پہلی بار ہوا کہ 54اسلامی ممالک کے سربراہان نے اکھٹے کسی ملک کی فوجی پریڈ یا یوم جمہوریہ میں شرکت کی ہو، موقع کی مناسبت سے پاکستان پوسٹ نے اسلامی کانفرنس کا یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔

یکم اپریل1997کو آئین میں تیرھویں ترمیم منظور کروالی اور صدر کا 58-2B کے ذریعے اسمبلیاں توڑنے کا اختیار ختم کر دیا۔

یکم جولائ1997کو ائین کی چودھویں ترمیم منظور کروائی اور اس کے ذریعے اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی فلور کراسنگ کا راستہ بند کردیا، پہلے کسی بھی پارٹی کے ٹکٹ پہ منتخب ہونے والے ارکان کسی بھی دوسری پارٹی کو ووٹ دےکر اس کی اقلیت کو اکثریت میں بدل سکتے تھے،اب ایسا کرنےکی صورت میں وہ اپنی نشست سے محروم ہوجاتے۔

23 فروری1997 قوم سے خطاب میں بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور معذور افراد کے لئے ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کیا۔ [7]

نواز شریف نے بوسنیا کو ساڑھے 8 ملین ڈالر امداد دی۔ [8]

نواز شریف پر تنقید[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

فوجی نرسری کی پیدوار[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کو سیاست میں لانے والا شخص جنرل جیلانی تھا۔ جس نے اس کو اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق سے متعارف کروایا۔

کرپشن[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اسحاق ڈار نے 25 اپریل 2000ء کو دفعہ 164 کے تحت ایک بیان میں اعتراف کیا کہ اس نے شریف خاندان کے لیے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 1 کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے مساوی رقم کی منی لانڈرنگ کی۔ حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔ اس ریفرنس کے ملزمان میں میاں نواز شریف، ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل ہیں۔ [9]

پانامہ لیکس میں انکشاف ہوا کہ نواز شریف اور اس کے بچے کئی آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں۔ نیز لندن میں موجود مےفیئرز کے فلیٹس بھی انہی کے ہیں۔ نیب کے مطابق نواز شریف کے بچوں کے نام پر 16 آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔ نواز شریف کے بچوں کے پاس موجود 4.2 ملین پاؤنڈ کے لیے بظاہر کوئی ذریعہ آمدن نہ تھے۔ نیز نواز شریف ہی العزیزیہ اور ہل میٹل کمپنی کے اصل مالک ہیں۔ [10]

امریکی مصنف ریمنڈ ڈبلیو بیکر نے اپنی کتاب CAPITALISM,S ARCHILLES HEEL میں باقاعدہ ستاویزی ثبوت فراہم کیے ہیں کہ نواز شریف نے قومی خزانہ سے 418 ملین ڈالر کی کرپشن کی۔ انہی پیسوں سے بیرون ملک میں اثاثے بنائے ہیں۔ ان میں موٹروے میں 160 ملین ڈالر کی کرپشن کی، بنکوں 140 ملین ڈالر قرضہ لے کر لوٹے اور چینی کی برآمد میں 60 ملین ڈالر لوٹے۔ نواز شریف نے قومی خزانہ سے 11 ارب لوٹ کر رائے ونڈ اسٹیٹ خریدی۔ [11]

غداری[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

سابق وزیراعظم نواز شریف نے 12 اکتوبر 1999 کو آرمی چیف مشرف کے طیارے کو انڈیا کی جانب موڑنے کا حکم دیا تھا۔ اس کیس میں شہباز شریف، چیئرمین سیف الرحمن، آئی جی سندھ رانا مقبول اور چند دیگر لوگ بھی نامزد تھے۔ اس کیس میں نواز شریف کے علاوہ باقی سب کو عدالت نے بری کر دیا تھا۔ امین اللہ چوہدری اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔

طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کو عمر قید اور جُرمانے کی سزا سُنائی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت نے اس کو پرواز میں آنے والے مسافروں کو 20 لاکھ روپے فی کس ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ صدر رفیق تارڑ نے میاں نواز شریف کو اس مقدمے میں دی جانے والی سزا کو معاف کردی تھی۔ [12]

ڈان کے صحافی سرل المیڈا نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس سےمتعلق دعوی کیا کہ اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوجی اور سیاسی قیادت میں اختلافات ہوئے۔ اس کی سیاسی اور فوجی قیادت دونوں نے تردید کی۔ تاہم یہ کہا جانے لگا کہ یہ خبر نواز شریف نے خود پلانٹ کروائی ہے تاکہ فوج پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ [13]

ریاستی اداروں کے خلاف جنگ[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

1997ء کو ن لیگ کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں سپریم کورٹ کی عمارت میں گھس کر چلتی عدالت پر دھاوا بولا تھا۔

نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوئی ایسا آرمی چیف نہیں گزرا جس کے ساتھ اسکی لڑائی نہ ہوئی ہو۔

حکومت پر تنقید[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کے تینوں ادوار میں قومی اداروں کے خسارے میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔

بیرونی قرضے میں بھی اضافہ ہوا۔

دیگر تنقید[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

نواز شریف کی گلوکارہ طاہرہ سید کے ساتھ قربتیں تھیں۔ فون پر ان سے گانا سننے کی فرمائش کرتے تھے۔ ہوٹلوں میں بھی بلایا کرتے تھے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ مری چئیر لفٹ کا ٹھیکہ انہوں نے طاہرہ سید کو دلوایا تھا۔ [14] اسی وجہ سے نعیم بخاری اور طاہرہ سید میں علیحدگی ہوگئی تھی۔

دیگر[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے حامد میر کے ایک پروگرام میں اعتراف کرتے ہیں کہ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ کہیں اور ہوا تھا۔ [15]

عمران خان نے ایک کورٹ میں ایک پیٹیشن دائر کی جس میں لکھا کہ عمران خان کو میں نے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار سے ہٹایا تھا۔ [16]

حوالہ جات[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]