پی ٹی آئی کی کرپشن

Shahidlogs سے

عمران خان[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی راہنما اعجاز چودھری کی ایک آڈیو لیک ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ عمران خان ٹکٹ لینے کے خواہشمندوں سے زمان پارک میں صرف ملاقات کا ایک کروڑ روپے لے رہے ہیں۔ [1]

عثمان بزدار[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

عثمان بزدار نے 5 سال پہلے اپنے اثاثے 7 لاکھ 62 ہزار روپے بتائی تھی۔ عمران خان کی حکومت میں وزیراعلی پنجاب رہنے کے بعد اس نے اپنے جو اثاثے ظاہر کیے انکی مالیت 2 ارب روپے بنتی ہے۔ [2]

مونس الہی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی نے حال ہی میں سپین میں 40 کروڑ روپے کی جائدایں خریدیں۔ ان کے علاوہ ایک نائب قاصد نواز بھٹی اور ایک بےروزگار طالب علم مظہر عباس کے نام پر رحیم یار خان شوگر ملزم کے 48 کروڑ کے شیئرز سامنے آئے ہیں۔ جو بعد میں چوہدری مونس الٰہی کے نام پر منتقل کیے گئے۔ [3]

پنڈورا پیپرز کے مطابق اسی مونس الہی کا لندن میں 54 لاکھ پاؤنڈ کا فلیٹ ہے۔ [4]

علی زیدی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

علی زیدی کر شپنگ میں کم از کم دس ملین ڈالر کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ [5]

پی ٹی آئی راہنما علی زیدی پر 18 کروڑ کے ایک عوض ایک شہری پر پلاٹ کی جعلی فائل بیچنے کا الزام ہے۔ [6]

علی امین گنڈا پور[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پولیس نے علی امین گنڈا پور کے گھر الامین ھاؤس پر چھاپا مارا تو اس کے گھر سے فلڈ ریلیف اور کرونا ریلیف کے سامان، غلیلوں اور ڈنڈوں کے تھیلے برآمد ہوئے۔ [7]

فیصل جاوید[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

فیصل جاوید ایک ریڈیو پریزینٹر سے سینٹر بنا اور بیوی کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کو اربوں کے سرکاری اشتہارات دلوائے۔ [8]

حماد اظہر[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

حماد اظہر ٹیکس کا وزیر تھا۔ اس 6 ہزار سے 20 ہزار تک ٹیکس دیتا تھا۔ جب کہ وہ ارب پتی ہے اور دنیا بھر میں پھرتا رہتا ہے۔ سوال یہ بھی تھا کہ جو شخص خود ٹیکس چوری کر رہا ہو وہ ٹیکس میں کیسے ریفارمز لاسکتا تھا؟ [9]

حماد اظہر پر یہ بھی الزام ہے کہ لیسکو چیف کی تعیناتی کے لیے اس نے بارہ کروڑ روپے رشوت لی۔ [10]

الیکشن کمیشن کو حماد اظہر کے جمع کرائے گئے اثاثوں کے گوشواروں اور اس کے اصل اثاثوں اور ان پر جمع کرائے گئے ٹیکس میں بہت زیادہ تضادات اور گڑبڑ کے شواہد ملے ہیں۔ [11]

پی ٹی آئی راہنما سلمان شعیب نے اعتراف کیا کہ مجھ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے عوض حماد اظہر نے ایک کروڑ روپے کی ڈیمانڈ کی۔ لاہور میں موجود تین شخصیات حماد اظہر ، حافظ فرحت اور محمود الحسن کرپشن کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ صرف ڈیرہ اسماعیل سے ان لوگوں نے 170 بلین روپے بٹورے۔ [12]

مجاہد خان[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی مردان کے ضلعی صدر اور سابقہ ایم این اے مجاھد خان کے پاس سے بیواؤں اور یتیموں کے لیے مختص کروڑوں روپے کی سلائی مشینیں برآمد۔ یہ مشینیں اس نے اپنے سیکڑی حاجی عابد صدر PTI تحصیل رستم مردان کے پٹرول پمپ میں چھپائی تھی۔ [13]

فرخ حبیب[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

شہباز گل کی ایک ٹویٹ سے تاثر ملا کہ تحریک انصاف کے ٹکٹوں کی عوض پاکستان بھر میں کروڑوں روپے کی رشوتیں لی جاتی تھیں اور فرخ حبیب بھی اس سے مستفید ہوئے ہیں۔ [14]

نذر محمد گوندل[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی کے نذر محمد گوندل پر 471 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔

راجہ بشارت[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت کے آبائی گھر حویلی راجگان میں بجلی چوری ہورہی تھی جس پر حویلی کا کنکشن کاٹ دیا گیا۔ حویلی میں کافی عرصہ سے بجلی چوری کر کے استعمال کی جارہی تھی۔ [15]

ارباب شیر علی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی رہنما اور سابق ایم این اے ارباب شیر علی بجلی چوری کرنے پر گرفتار ہوئے۔ موصوف کنڈا ڈال کر بجلی چوری کررہے تھے۔ [16]

ابرار الحق[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی راہنما ابرار الحق پر سہارا کالج کو لوٹ مار کا ذریعہ بنانے کے الزامات ہیں۔ [17]

مراد سعید[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

2020 میں مراد سعید کی وزارت پاکستان پوسٹ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 118 ارب روپے کے میگا سکینڈل کا انکشاف کیا۔ لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ مبینہ طور پر مراد سعید اس کانٹریکٹ پر HBL بینک سے 7 ارب روپے رشوت لی تھی۔ [18]

مراد سعید پر الزام ہے کہ اس نے وفاقی نوکریاں 10 سے 25 لاکھ میں فروخت کی تھیں اور اپنی وزارت میں لیاری ایکسپریس وے کا ٹھیکہ مخالف پارٹی کو دے کر کروڑوں روپے وصول کیے۔

اسد قیصر[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اسدقیصر پر گجو خان میڈیکل کالج صوابی کےلیے طبی آلات کی خریداری میں کرپشن کا الزام ہے۔ [19]

اظہر مشوانی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

اظہر مشوانی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پہلے بائیک پہ پھرتے تھے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد وہ پراڈو میں پھرنے لگے۔ [20]

سجاد برکی[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی کے دو راہنماؤں نے کم و بیش 2 ملین ڈالرز کے مساوہ چندہ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جس میں سے کچھ پاکستانی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا۔ عمران خان کے مشیر سجاد برکی نے 1.8 ملین ڈالرز میں سے صرف 30 ہزار ڈالر بھیجے اور باقی رقم غائب کر لی۔ [21]

دیگر[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]

پی ٹی آئی حکومت میں پشاور میوزم سے 20 ارب روپے مالیت کے نوادارت چوری یا تبدیل کر کے بیچنے کا انکشاف ہوا۔ [22]

پی ٹی آئی کے سابق راہنما اکبر ایس بابر نے سال 2014ء میں الیکشن کمیشن میں ایک درخواست دائر کی جس میں اس نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے اپنی الیکشن مہم کے لیے صرف اوور سیز پاکستانیوں سے نہیں بلکہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے ہیں جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ [23]

ارشاد بھٹی نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی حکومت میں پنجاب میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریٹ 20 ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک چل رہا ہے۔ [24]

سوشل میڈیا پر زیرگردش ایک رپورٹ کے مطابق مشعال یوسفزئی نے پہلے اپنے لیے نان کسٹم پیڈ 14 کروڑ کی لیکسس گاڑی کا اجازت نامہ لینے کی کوشش کی۔ جس میں ناکامی پر ان کے لیے 1 کروڑ 70 لاکھ کی گاڑی منظور کی گئی۔ لیکن وہ حکم بھی سوشل میڈیا پر شور اٹھنے پر واپس لینا پڑا۔ [25]

شیر افضل مروت نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی کی کے پی حکومت میں بہت زیادہ کرپشن ہوئی اور بعض لوگ کھرب پتی ہوگئے۔ [26]

حوالہ جات[ترمیم | ماخذ میں ترمیم کریں]